رنر عارف محمد خان کا اظہار خیال
صوبہ بہار کے عزت مآب گورنر جناب عارف محمد خان نے شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر مظہر آصف، پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ،پروفیسر تنوجا، ڈین کارگزار ڈائریکٹر،سینٹر فار دی اسٹڈی آف سوشل انکلوژن(سی ایس ایس آئی)، ڈین اکیڈمک افیئرز اور پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر مجیب الرحمان،سی ایس ایس آئی کی موجودگی میں کل ڈاکٹر ایم۔اے انصاری آڈیٹوریم میں ’ریفکلیشنس آف انڈین کلچر: میکنگ سینس آف اٹس یونیورسل وائس‘ کے موضوع پر پانچواں خان عبد الغفار خان سالانہ یادگاری خطبہ دیا۔
سالانہ یادگاری خطبہ مشہور پشتون قائد اور ہندوستان جدو جہد آزادی کی قد آور شخصیت اور مہاتما گاندھی کے قریبی خان عبد الغفارخان کی یاد میں منعقد ہوا تھا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سینٹر فار دی اسٹڈی آف سوشل انکلوژن (سی ایس ایس آئی) نے اس یادگاری خطبے کا اہتمام کیا تھا۔جامعہ ملک کی وہ واحد یونیورسٹی ہے جس نے خان عبد الغفار خان کی وراثت اور زندگی کے جشن کے لیے دوہزارسترہ میں ان کے نام سے یادگاری خطبے کی شروعات کی تھی۔واضح رہے کہ خان عبد الغفار خان کو امن و امان اورانسانیت کے تئیں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں بھارت کا سب سے عظیم شہری انعام بھارت سے انیس سو ستاسی میں سرفراز کیا گیا تھا۔
شیخ الجامعہ، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اعلی عہدیداروں نے سینٹینری گیٹ پرعزت مآب گورنر کا باقاعدہ استقبال کیا۔اس کے بعد این سی سی کیڈٹ نے شان دار سلامی دی جس کے ساتھ ہی پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ آڈیٹوریم میں ان کی آمد پر شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور مسجل، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ان کا استقبال کیا۔پروفیسر تنوجا نے فیکلٹیز کے ڈینز، صدور شعبہ جات،مراکز کے ڈائریکٹرز، جامعہ کے عہدیداران،فیکلٹی اراکین اور طلبہ پر مشتمل سامعین کا خیر مقدم کیا اور لیکچر سیریز کے ساتھ ساتھ سی ایس ایس آئی اور یادگاری خطبے کے مشن کے بارے میں حاضرین کو بتایا۔انہوں نے کہا کہ ”آج کا یہ خطبہ خاص طورپر اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ کیوں کہ یہ ہندوستان کے یوم آئین کے موقع پر منعقد ہورہاہے اور اس کی اہمیت و معنویت کے پیش نظر عزت مآب گورنر کمال شفقت سے اس تاریخی پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے ہیں“۔
قرآن پاک کی تلاوت سے پروگرام کا آغاز ہوا جس کے بعد جامعہ کا ترانہ پیش کیا گیا۔اس کے فوراً بعد خان عبد الغفار خان کی امن اور عدم تشدد کی اقدار کو خراج پیش کرنے کے لیے جس نے ان کی زندگی اور کام دونوں کو سمت دی، عالی وقار گورنر نے ان کی تصویر کے سامنے شمع روشن کی۔عالی وقار گورنر کے لفظوں میں ’قبائلی پشتوں کو امن کا شیدا بنادیا“۔عزت مآب گورنر جناب عارف محمد خان نے انگریزی سرکار کے خلاف خان عبد الغفار خان کی قربانیوں اور ہندوستان کی جد وجہد آزادی میں ان کی عظیم قربانیوں کا تذکرہ کیااور انہیں ’ہماری آزادی کی تحریک کا ہیرو‘ قرار دیاجس کی وجہ سے انہیں ’سرحدی گاندھی‘ کا خطاب دیا گیا۔
تاریخی حوالوں سے پُر تقریر میں عزت مآب گورنر جناب عارف محمد خان نے ہندوستانی،فارسی، عربی اور یونانی فلسفیوں اور صوفیا اور بزرگوں کے حوالے دیے،مذہبی متون کے علاوہ انہوں نے ہندوستانی تہذیب کی نمایاں خوبیوں کے بارے میں وضاحت و صراحت سے بیان کیا۔انہوں نے کہاکہ ”عظیم صوفیا اور بزرگوں کی تعلیمات کا گہر او عمیق مطالعہ آدی شنکر آچاریہ سے سوامی وویکانند تک سب کی جڑیں ویدانتی فلسفہ اور اپنی شدوں کی تعلیمات میں پیوست ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ ہندوستانی تہذیب عالمی تہذیب کے وژن پر استوار ہے جو فرد کو شناخت کے اوصاف جیسے ذات، رنگ،نسل کے طورپر نہیں دیکھتی بلکہ انسان کو غیر منقسم وجود اور ہستی کے بطور اخذ کرتی ہے۔جو روح یا الوہی اعتقاد کے مقدمات ہیں اور ہرکسی میں بسی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر فرد ممکنہ الوہی کے بطور دیکھا اور سمجھا جاتاہے۔انہوں نے کہاکہ ہندوستانی تہذیب انسان کی یہ اعلی تفہیم دیتی ہے اور اس حد تک ”الوہیت کو انسانی بنانے جو کہ ایک آتما کی روح سے جاری ہوتی ہے یا ہستی کی یکتائی ہوتی ہے۔‘کی صلاحیت کی وجہ سے ممتاز ہے۔
خان عبدالغفار خان کی زندگی سے مماثلتوں کو تلاش کرتے ہوئے عزت مأب گورنر جناب عارف خان نے کہاکہ دنیا میں پانچ بڑی تہذیبیں رہی ہیں۔ اور ’ہندوستانی تہذیب سب سے عظیم ہے کیوں کہ وہ علم اور حکمت و دانائی کے فروغ کے لیے مشہور اور ممتازہے۔“بر صغیر کے اردو کے ممتاز شاعر علامہ اقبال کی شاعری کا حوالہ دیا کہ ’میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے۔میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے‘۔اس میں ہندوستان کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ایسی سرزمین ہے کہ جو علم و دانش کا سرچشمہ ہے اور جہاں سے علم وعرفان کی ٹھنڈی ہوائیں عرب کو پہنچیں اور دنیا میں ہر طرف پھیلیں۔
سوامی وویکانند کے دنیا کو ہندوستان کے مشہور پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں آفاقی روحانیت،افراد میں الوہیت،عبادات اور ریاضت کے عملی پہلو،تجربات سے حاصل ارفع علم،بنی نوع انساں کی عظمت پر زور دیا گیا عزت مآب گورنرنے اسے دنیا کے لیے ہندوستان کا حل بتایا جس سے جنگ کے مسائل کم ہوسکتے ہیں اور آج دنیا جن مصائب سے دوچار ہے اس میں بھی آسانی پیدا ہوسکتی ہے۔ جناب عارف محمد خان نے مزید کہا کہ’جب باقی دنیا نے انیس سو اڑتالیس میں انسانی عظمت کے تصور کو جانا ہندوستان نے دنیا کو یہ پیغام صدیوں پہلے دے دیا تھا۔“
پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے اپنی تقریر میں خان عبد الغفار کے قومیت کے تصور پر زور دیا جس نے نوآبادتی نظام کے خلاف متحدہ محاذ کے طورپر نبر آزما ہونے کے لیے قوم پرستوں کو تحریک دی تھی۔پروفیسر رضوی نے کہاکہ ’سرحدی گاندھی‘جنہوں نے نوآبادیات مخالف،عدم تشدد کی حامل تحریک ’خدائی خدمت گار‘ کے نام سے ایک تنظیم بنائی اور ہندوستان اور پشتوں عوام کی آزادی کے لیے اپنی زندگی وقف کردی اور اس کے لیے انگریزی حکومت نے انہیں مسلسل نشانہ بھی بنایا۔آزادی کے لیے اتحاد اور عدم تشدد میں غفار کے یقین کی اہمیت کو نشان زد کرتے ہوئے پروفیسر رضوی نے تذکرہ کیاکہ غفار خان کو کیسی تکلیف ہوئی اور جب انہوں نے ہندوستان کی مجوزہ تقسیم کی خبر سنی اور انہیں ہمیشہ یہ یقین تھا کہ ہندوستان کی آزادی تمام جنوبی ایشیا کی آزادی کے لیے اہم ہے۔ عدم تشدد کی راہ سے شمولیتی قومیت، سیکولرزم اور رحم دلی نے ان کے اعتقاد کو واضح کیاکہ ہندوستان کی ترقی غیر منقسم، شمولیتی اور جمہوری بھارت میں ہے‘۔پروفیسر رضوی نے مزید کہا کہ ”خان عبد الغفار خان کی وراثت ایک موثر اور طاقت ور یقین دہانی ہے کہ سچی قومیت کی جڑیں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، انصاف،انسانی عزت و توقیر اور متحد بھارت کی روح میں پیوست ہیں۔“
پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنی صدارتی گفتگو میں کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، قومی اور بین الاقومی سطح پر معیاری تعلیم کی بہترین مثال ہے کیوں کہ یہ جذبہ ترحم، باہمی بقا، سنسکار،تعلیم،تہذیب،تربیت،ہنر اور اقداری تعلیم،ملک کے تئیں وقف ہونے اور قومی خدمت کے لیے عہد بند ہونے کے اصولوں پر استوار ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیاکہ ہندوستان کی تہذیبی روایات رحم دلی، باہمی بقا،مذاکرات و تعلیم، خود انضباطی اور معاشرے کے کمزور ترین طبقات کو بااختیار بنانے پر مرکوز ہے۔انہوں نے ہندوستانی تہذیب کی نگار نگی اوراس کی لازوال تکثیریت کو بھی اجاگرکیا اور ان آئیڈیلز کی معنویت پر زور دیاجنہیں خان عبد الغفار خان کی زندگی نے مناسب انداز میں ظاہر کیا ہے۔پروفیسر آصف نے کہاکہ ہندوستانی تہذیب کی رو حانی و اخلاقی بنیادوں میں آفاقیت کی اپیل ہے جو امن اور باہمی عزت و احترام کے تئیں معاشروں کی بدستور رہنمائی کررہی ہے۔
اس سے پہلے خان عبد الغفار خان یادگاری خطبات جن اہم علمی شخصیات اور دانشوروں نے دیے ہیں ان میں دوہزار سترہ میں جناب راج موہن گاندھی، مہاتما گاندھی کے پوتے،سابق سی ای او،نیتی آیوگ، دوہزار اٹھارہ میں جناب امیتابھ کانت پروفیسر امیریٹیس،جواہر لعل نہرو یونیورسٹی،دوہزار انیس میں پروفیسر ضویا حسن اور دوہزار بیس میں پروفیسر شروتی کپیلا،کیمبرج یونیورسٹی شامل ہیں۔
قومی ترانے کی نغمہ سرائی پر پروگرام کا اختتام ہوا۔
پروفیسر صائمہ سعید
افسر اعلی،تعلقات عامہ
جامعہ ملیہ اسلامی
No comments:
Post a Comment