حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنا آخری خطبہ 9 ذوالحجہ، ہجرت کے دسویں سال، میدانِ عرفات کے قریب وادیٔ عرنہ میں ارشاد فرمایا۔ یہ تاریخی موقع آپ ﷺ کے حجۃ الوداع کا تھا، جو مکہ مکرمہ کا آپ ﷺ کا پہلا اور آخری حج تھا۔ حج اسلام کا پانچواں رکن ہے۔ اس عظیم خطبے میں رسولِ اکرم ﷺ نے اسلام کے بنیادی دینی، اخلاقی اور انسانی اصول نہایت واضح اور جامع انداز میں بیان فرمائے، جن میں اللہ تعالیٰ کے حقوق، بندوں کے حقوق، انسانی مساوات، عدل و انصاف، عورتوں کے حقوق اور اسلامی تعلیمات کی پابندی پر زور دیا گیا۔
اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
﴿ ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَـٰمَ دِينًۭا ﴾
“آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔”
(سورۃ المائدہ: 5:3)
رسول اللہ ﷺ کے اس آخری خطبے میں وہ ابدی تعلیمات موجود ہیں جن پر ہر مسلمان کو عمل کرنا چاہیے، مثلاً انسانی جان و مال کا احترام، عورتوں کے حقوق کی حفاظت، اسلام کے پانچ ارکان کی پابندی، نسلی مساوات اور سماجی انصاف۔
اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا:
“اے لوگو! میری بات غور سے سنو، کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ اس سال کے بعد میں تمہارے درمیان دوبارہ موجود ہوں گا یا نہیں۔ لہٰذا جو کچھ میں تم سے کہہ رہا ہوں اسے اچھی طرح سن لو اور ان لوگوں تک پہنچا دو جو یہاں موجود نہیں ہیں۔
اے لوگو! جس طرح تم اس مہینے، اس دن اور اس شہر کو حرمت والا سمجھتے ہو، اسی طرح ہر مسلمان کی جان اور مال کو بھی مقدس امانت سمجھو۔ جو امانت تمہارے سپرد کی جائے اسے اس کے حق دار تک پہنچاؤ۔ کسی پر ظلم نہ کرو تاکہ تم پر بھی ظلم نہ کیا جائے۔ یاد رکھو! تمہیں اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تمہارے اعمال کا حساب لے گا۔
اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام قرار دیا ہے، لہٰذا آج سے تمام سود ختم کیا جاتا ہے۔ تمہیں صرف اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے، نہ تم ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔ سب سے پہلے میں اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب کا سود ختم کرتا ہوں۔
شیطان سے ہوشیار رہو، کیونکہ وہ تمہارے دین کے معاملے میں بڑی باتوں میں تمہیں گمراہ کرنے سے مایوس ہو چکا ہے، لیکن چھوٹی باتوں میں اس کی پیروی سے بچتے رہو۔
اے لوگو! تمہارے اپنی عورتوں پر حقوق ہیں اور ان کے تم پر حقوق ہیں۔ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر اپنے نکاح میں لیا ہے۔ اگر وہ تمہارے حقوق ادا کریں تو تم پر لازم ہے کہ انہیں اچھے طریقے سے کھلاؤ اور پہناؤ۔ عورتوں کے ساتھ بھلائی اور نرمی کا معاملہ کرو، کیونکہ وہ تمہاری شریکِ حیات اور مددگار ہیں۔
اے لوگو! اللہ کی عبادت کرو، پانچ وقت کی نماز ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، زکوٰۃ ادا کرو اور اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔
تمام انسان آدمؑ اور حواؑ کی اولاد ہیں۔ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ اور نیک اعمال کے۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ کسی مسلمان کا مال دوسرے مسلمان کے لیے جائز نہیں، جب تک وہ خوش دلی سے نہ دے۔ لہٰذا ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔
یاد رکھو! ایک دن تم سب کو اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا، لہٰذا میرے بعد گمراہی کے راستے پر نہ چلنا۔
اے لوگو! میرے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کوئی نیا دین۔
میری بات کو اچھی طرح سمجھ لو۔ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب قرآنِ مجید اور میری سنت۔ اگر تم ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔
جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ میری بات دوسروں تک پہنچائیں، اور وہ آگے دوسروں تک پہنچائیں۔ ممکن ہے بعد میں سننے والے ان باتوں کو ان لوگوں سے بہتر سمجھیں جو براہِ راست سن رہے ہیں۔
اے اللہ! گواہ رہنا کہ میں نے تیرا پیغام تیرے بندوں تک پہنچا دیا۔”
(حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 1623، 1626، 6361۔ صحیح مسلم، حدیث: 98۔ جامع الترمذی، حدیث: 1628، 2046، 2085۔ مسند احمد بن حنبل، حدیث: 19774)
No comments:
Post a Comment