یہ سیاسی احتساب کا زمانہ ہے جہاں مسلمانوں کی بڑی آبادیاں ہیں، وہاں کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو بہت سے تلخ حقائق سامنے آ تے ہیں۔مرشد آباد، دیناج پور، مالدہ، 24 پرگنہ، ندیہ، کولکاتا اور ہاوڑہ کےمسلمان اسی پسماندگی، غربت اور بیماری کے عالم میں دکھائی دیں گے۔ مسلم ادارے بھی شدید بدعنوانی کا شکار ہوئے۔ ایسے میں خوف زدہ عوام نے انتہائی خاموشی سے فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ محض انتخابی بدعنوانی کو حزبِ اختلاف کی شکست کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
بنگال انتخابات کے نتائج نے ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کو حراس اورسراسیمگی کا شکار بنا دیا ہے۔ سب اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے خدشات کا شکار نظر آتےہے۔ بی جے پی جس انداز سے مسلسل انتخابی موڈ میں رہتی ہے، نچلی سطح تک اپنے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بناتی رہتی ہے ، انتخابات پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کرتی ہے، اس کے ساتھ ملک کا بڑا میڈیا اس کی تشہیر میں مصروف رہتا ہے، جبکہ الیکشن کمیشن، حفاظتی ایجنسیاں اور دیگر ریاستی ادارے بھی اس کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں ۔ یہ تمام عوامل سیاسی جماعتوں کے خدشات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ان حالات میں تقریباً ہر سیاسی جماعت کے سامنے ایک ہی بنیادی سوال رہ جاتا ہے کہ بی جے پی کو کس طرح شکست دی جا سکتی ہے۔بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس سوال پر غور کرتے وقت یہ شکست خوردہ جماعتیں اپنی کمیوں کا ایمانداری سے جائزہ نہیں لیتیں۔ سارا الزام محض ووٹنگ مشینوں یا نظام کی بدعنوانی پر ڈال دیتی ہیں، جبکہ زمینی سطح پر عوام کے حقیقی مسائل کو اجاگر کرنے اور مستقل عوامی تحریک چلانے میں ناکام رہتی ہیں۔جہاں جہاں یہ جماعتیں اقتدار میں رہتی ہیں، وہاں ان کی اپنی بدعنوانیاں بھی انتخابی نتائج کو متاثر کرتی ہیں اور بالواسطہ طور پر بی جے پی کو تقویت پہنچاتی ہیں ،اسی لیے عموماً ان کے انتخابی تجزیے بھی غلط ثابت ہوتے ہیں۔ مثلا بنگال کے انتخابات کو ہی لیجیے۔ بی جے پی کی حکمتِ عملی اور اداروں کے مبینہ غلط استعمال کی بات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، لیکن گزشتہ پندرہ سال کے دوران ممتا بنرجی حکومت کی ناکامیوں، عوامی شکایات، مقامی کارکنان کی من مانیوں اور مبینہ وصولی کے نظام جیسے تلخ حقائق کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
1977میں کانگریس کے اقتدار کے خاتمے کے وقت بی جے پی کا وجود بھی نہیں تھا، لیکن تیس سالہ کانگریسی حکمرانی عوامی توقعات پر پوری نہ اتری اور بنگال معاشی بحران کا شکار رہا۔اسی طرح 2011 میں چونتیس سالہ سی پی ایم حکومت کے خاتمے کے وقت بھی صورتِ حال یہی تھی۔ بنگال کے دیہات میں ایک معمولی کمیونسٹ کارکن بھی یہ کہہ دیتا تھا کہ وہ سی پی ایم کرتاہے، تو اس کا ہر جرم معاف سمجھا جاتا تھا اور قانون اس پر لاگو نہیں ہوتا تھا۔اس وقت بھی وہاں بی جے پی کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا،
بنگال انتخابات کے نتائج نے ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کو حراس اورسراسیمگی کا شکار بنا دیا ہے۔ سب اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے خدشات کا شکار نظر آتےہے۔ بی جے پی جس انداز سے مسلسل انتخابی موڈ میں رہتی ہے، نچلی سطح تک اپنے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بناتی رہتی ہے ، انتخابات پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کرتی ہے، اس کے ساتھ ملک کا بڑا میڈیا اس کی تشہیر میں مصروف رہتا ہے، جبکہ الیکشن کمیشن، حفاظتی ایجنسیاں اور دیگر ریاستی ادارے بھی اس کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں ۔ یہ تمام عوامل سیاسی جماعتوں کے خدشات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ان حالات میں تقریباً ہر سیاسی جماعت کے سامنے ایک ہی بنیادی سوال رہ جاتا ہے کہ بی جے پی کو کس طرح شکست دی جا سکتی ہے۔بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس سوال پر غور کرتے وقت یہ شکست خوردہ جماعتیں اپنی کمیوں کا ایمانداری سے جائزہ نہیں لیتیں۔ سارا الزام محض ووٹنگ مشینوں یا نظام کی بدعنوانی پر ڈال دیتی ہیں، جبکہ زمینی سطح پر عوام کے حقیقی مسائل کو اجاگر کرنے اور مستقل عوامی تحریک چلانے میں ناکام رہتی ہیں۔جہاں جہاں یہ جماعتیں اقتدار میں رہتی ہیں، وہاں ان کی اپنی بدعنوانیاں بھی انتخابی نتائج کو متاثر کرتی ہیں اور بالواسطہ طور پر بی جے پی کو تقویت پہنچاتی ہیں ،اسی لیے عموماً ان کے انتخابی تجزیے بھی غلط ثابت ہوتے ہیں۔ مثلا بنگال کے انتخابات کو ہی لیجیے۔ بی جے پی کی حکمتِ عملی اور اداروں کے مبینہ غلط استعمال کی بات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، لیکن گزشتہ پندرہ سال کے دوران ممتا بنرجی حکومت کی ناکامیوں، عوامی شکایات، مقامی کارکنان کی من مانیوں اور مبینہ وصولی کے نظام جیسے تلخ حقائق کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
1977میں کانگریس کے اقتدار کے خاتمے کے وقت بی جے پی کا وجود بھی نہیں تھا، لیکن تیس سالہ کانگریسی حکمرانی عوامی توقعات پر پوری نہ اتری اور بنگال معاشی بحران کا شکار رہا۔اسی طرح 2011 میں چونتیس سالہ سی پی ایم حکومت کے خاتمے کے وقت بھی صورتِ حال یہی تھی۔ بنگال کے دیہات میں ایک معمولی کمیونسٹ کارکن بھی یہ کہہ دیتا تھا کہ وہ سی پی ایم کرتاہے، تو اس کا ہر جرم معاف سمجھا جاتا تھا اور قانون اس پر لاگو نہیں ہوتا تھا۔اس وقت بھی وہاں بی جے پی کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا،
واضح رہے کہ اٹل بہاری واجپائی کے قائم کردہ این ڈی اے کی حلیف رہ کر ہی انہوں نے ریاستی سیاست میں اپنا قد بلند کیا تھا، اور اسی اتحاد کی وجہ سے بنگال میں بی جے پی کو بھی قدم جمانے کا موقع ملا تھا۔پندرہ سالہ اقتدار کے دوران ان کے زمینی لیڈران نے بھی اقتدار کا بھرپور اور ناجائز فائدہ اٹھایا، مگر عوام کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی بہت دلجوئی کرتی تھیں، لیکن شمالی بنگال، جہاں مسلمانوں کی بڑی آبادیاں ہیں، وہاں کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو بہت سے تلخ حقائق سامنے آ تے ہیں۔مرشد آباد، دیناج پور، مالدہ، 24 پرگنہ، ندیہ، کولکاتا اور ہاوڑہ کےمسلمان اسی پسماندگی، غربت اور بیماری کے عالم میں دکھائی دیں گے۔ مسلم ادارے بھی شدید بدعنوانی کا شکار ہوئے۔ ایسے میں خوف زدہ عوام نے انتہائی خاموشی سے فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ محض انتخابی بدعنوانی کو حزبِ اختلاف کی شکست کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ممتا بنرجی انتہائی سربرآوردہ، تجربہ کار، سادہ مزاج اور زمینی قائد ہیں۔ ان کی تمام عمر سیاسی مجاہدے سے عبارت ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے انتخابات میں اتنی فاش سیاسی غلطیاں کس بنیاد پر کر ڈالیں، یہ کہنا مشکل ہے۔سیاست میں بھائی بھتیجا پروری ایک دن اپنے انجام کو ضرور پہنچتی ہے، لیکن اس سے قطعِ نظر انتخابات کے بعد ایک ماہ کے دوران بنگال کے واقعات بہت سنسنی خیز ہیں۔ اس سے قبل بھی کانگریس، سی پی ایم اور ٹی ایم سی یکے بعد دیگرے اقتدار حاصل کرتی رہی ہیں، ہر بار ان پارٹیوں کا زمینی کیڈر اور ووٹر بڑی حد تک حکمران جماعت کی جانب منتقل ہو جاتا تھا۔ لیکن 2016 اور 2021 کے ریاستی انتخابات کا بوتھ سطح کا تجزیہ بتاتا ہے کہ ان انتخابات میں سی پی ایم اور کانگریس کا زمینی کیڈر اور ووٹر تیزی کے ساتھ ترنمول کانگریس کی بجائے بی جے پی میں شامل ہو گیا تھا۔ آج بنگال میں بی جے پی کا جو زمینی سطح کا کیڈر موجود ہے، وہ کانگریس اور سی پی ایم سے آیا ہے۔ ریاست کے موجودہ وزیرِ اعلیٰ خود بھی کانگریس سے وابستہ رہےہیں، لیکن تب اقتدار کی تبدیلی کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر سیاسی تشدد کے واقعات پیش نہیں آئے تھے۔ اب صورتِ حال مختلف ہے۔ حالانکہ ان واقعات کو عوامی غصے اور ردِ عمل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
سچ یہ ہے کہ زیادہ تر واقعات میں بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کے کارکن پیش پیش رہتے ہیں۔ عموماً عوام کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوتا، اور تشویش کا اصل پہلو یہی ہے کہ حکمران جماعت کے کارکن سیاسی انتقام لینے کے نام پر فرقہ واریت کو بھی پرتشدد طریقے سے فروغ دے رہے ہیں۔اس ردِ عمل کی وجہ یہ ہے کہ اس پورے عرصے میں ریاست کا مسلم ووٹر سیکولر جماعتوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا اور کانگریس یا کمیونسٹ غیر مسلم کیڈر کی طرح بی جے پی کی طرف منتقل نہیں ہوا۔ لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ یہ تقریباً 30 فیصد ووٹر بے یار و مددگار اور سیاسی یتیمی کا شکار ہو گیا ہے۔ خود ممتا بنرجی بھی اپنی پارٹی پر گرفت کھو بیٹھی ہیں۔ایسے میں ہر روز ہونے والے ان مظالم کے خلاف سڑکوں پر جدوجہد کرنے کے لیے کون سامنے آئے گا؟ بنگال جیسی صورتِ حال آئندہ ہونے والے ہر ریاستی انتخاب میں دہرائی جا سکتی ہے۔ یہی وہ حالات ہیں جن سے سیاسی جماعتیں لرزہ براندام ہیں۔ایسے میں، جہاں ممتا بنرجی اپنے بھتیجے کے ساتھ اپنی پارٹی کو کانگریس میں ضم کرنے کے امکانات پر غور کر رہی ہیں، وہیں بعض دوسری جماعتوں میں بھی یہ مشورہ زیرِ بحث ہے کہ بی جے پی کو شکست دینے کے لیے انڈیا اتحاد کی اکثر حلیف جماعتوں کو کانگریس میں ضم ہو جانا چاہیے اور متحدہ طور پر بی جے پی کے مقابلے میں دو بدو لڑائی لڑنی چاہیے۔حتیٰ کہ شیو سینا کے سنجے راوت اور این سی پی کے شرد پوار کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے اشارے سامنے آئے ہیں۔ ۸ جون کو انڈیا اتحاد کی میٹنگ اور اس کے بعد ملک میں یہ بحث مزیدبڑھ گئی ہے۔
میرے نزدیک یہ بہت دور کی کوڑی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اکثر پارٹیاں کانگریس سے ٹوٹ کر ہی وجود میں آئی ہیں۔ ان کا وجود ہی کانگریس مخالفت پر قائم ہے، تو پھر کانگریس میں ضم ہو کر اپنے وجود کو تحلیل کرنے کا خطرہ کون مول لے گا؟دوسری بات یہ ہے کہ سماج وادی پارٹی، آر جے ڈی اور مسلم لیگ وغیرہ جیسی علاقائی اور موروثی پارٹیاں خود کو کانگریس میں ضم کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتیں۔ اسی طرح کمیونسٹ جیسی نظریاتی جماعتیں بھی محض ایک انتخابی مصلحت کی خاطر اپنے وجود کو ختم کرنے کا رسک نہیں لے سکتیں۔اس نوعیت کی بہت سی دوسری مجبوریاں بھی مختلف سیاسی جماعتوں کو درپیش ہیں۔ دوسری جانب خود کانگریس پارٹی کا دیرینہ رویہ یہی رہا ہے کہ وہ بلا شرکتِ غیرے اقتدار میں رہنا چاہتی ہے ،کسی دوسری جماعت کو پنپنے نہیں دینا چاہتی۔ اسی لیے ممتا بنرجی اور شرد پوار جیسے رہنما پارٹی چھوڑ کر باہر آئے تھے۔لیکن اگر آج یہ بحث کھڑی ہوئی ہے تو اس کے پیچھے شکست خوردگی کی ایک عارضی نفسیات کارفرما ہے۔ فی زمانہ تقریباً تمام سیاسی جماعتیں ایک طویل عرصے سے اقتدار سے دور رہنے کی وجہ سے مالی وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ سب کی جیبیں تقریباً خالی ہیں۔ یہ جماعتیں کچھ عرصہ مزید اقتدار سے دور رہیں تو کوڑی کوڑی کی محتاج ہو جائیں گی، اور مالی کمزوری کے باعث بہت سی جماعتیں ویسے ہی اپنے وجود سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی۔کمیونسٹ پارٹیاں اس کی نمایاں مثال ہیں۔
اس وقت سارے وسائل اور دولت صرف بی جے پی کے ہاتھ میں ہیں، جس کا وہ بھرپور فائدہ اٹھاتی ہے۔ آج کے زمانے میں دولت کے بغیر انتخابات لڑنا ہی ممکن نہیں، جیتنا تو بہت دور کی بات ہے۔ زمینی کارکنان بھی پیسے کے بغیر ایک انچ نہیں ہلتے۔ نظریاتی سیاست اور جانثار کارکنوں کا زمانہ ختم ہو چکا ہے۔اس لیے ممکن ہے کہ یہ جماعتیں عارضی طور پر کانگریس کے پرچم تلے اکٹھی ہو کر پہلے بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانے اور پھر خود اقتدار حاصل کرنے کی حکمتِ عملی پر غور کر رہی ہوں۔ ایک مرتبہ اقتدار میں آ کر اگر وہ دوبارہ مضبوط ہو جائیں تو کانگریس سے الگ ہوکر نئی صف بندی کرنے کا راستہ تو ہمیشہ کھلا ہی رہے گا۔لیکن اگر ایسا ہے تو یہ ملک کے ساتھ بڑی سیاسی بددیانتی ہوگی۔ ملک اس وقت کثیر الجماعتی جمہوریت کا حامل ہے۔ آر ایس ایس ہمیشہ سے یہ چاہتی ہے کہ ملک دو جماعتی نظام میں تبدیل ہو جائے اور بعد ازاں چین اور روس کی طرح ایک جماعتی نظام کی طرف بڑھ جائے۔اگر اقتدار سے محروم یہ جماعتیں اپنی موجودہ حکمتِ عملی کے ذریعے اسی رجحان کو تقویت دیتی ہیں تو وہ غیر ارادی طور پر آر ایس ایس کی اس خواہش کی تکمیل میں معاون ہوں گی دو جماعتی نظام میں اقلیتوں، قبائلیوں، دلتوں، پسماندہ طبقات اور علاقائی شناختوں کی نمائندگی کرنے والی آوازوں کے لیے گنجائش کم ہو گی۔اس صورت میں ملک کی کثیر آبادی اپنے جمہوری، سیاسی، اقتصادی، تہذیبی اور تشخصی مسائل کے حل کے لیے کسی نہ کسی بڑی جماعت کی بندھوامزدور بننے پر مجبور ہو جائیں گی۔ ملک کی ہر سیاسی جماعت میں برہمنی ذہنیت کا یہ غلبہ ملک کی سیاست کو آر ایس ایس کی خواہشات کی تکمیل میں ہمیشہ مدد دیتا رہا ہے اور آج بھی وہی کر رہا ہے۔ کثیر الجماعتی جمہوریت ہی ملک کی ہمہ جہت ترقی کی ضامن اور "سب کا ساتھ، سب کا وکاس" کی حقیقی کنجی ہے۔اس کے برعکس صورتِ حال استبداد اور استحصال کا ایک نیا باب کھول دے گی۔ محض ایک انتخاب جیتنے کی خاطر ملک کے سیاسی نظام کو گروی رکھ دینا "تحفظِ دستور" کے نعرے کے منافی ہے۔ملک میں منصفانہ اور مستحکم سیاست کے قیام کے لیے نئی سیاسی صف بندی ناگزیر ہے، جو کانگریس، بی جے پی اور ان کے حلیفوں کے دائرے سے باہر کھڑی کرنی ہوگی۔ اس کے لیے مذہب، ملت، ذات، برادری اور علاقائی تفریق سے بالاتر ہو کر، صرف غربت اور محرومی کو بنیاد بنا کر سیاسی قیادت کو ابھرنا ہوگا، تبھی ملک کے مسائل کا حل ممکن ہو سکے گا۔اس کے لیے بہرحال کچھ وقت درکار ہے۔ سرِدست بی جے پی بھی 2029 کے انتخابات کے حوالے سے زیادہ متفکر محسوس نہیں ہوتی۔ ان کا اصل ہدف 2034 ہے دریا میں طغیانی لانے کے لئے اتنی مہلت کافی ہے۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کاؤنسل کے صدر ہیں )
arrifah@gmail.com
ممتا بنرجی انتہائی سربرآوردہ، تجربہ کار، سادہ مزاج اور زمینی قائد ہیں۔ ان کی تمام عمر سیاسی مجاہدے سے عبارت ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے انتخابات میں اتنی فاش سیاسی غلطیاں کس بنیاد پر کر ڈالیں، یہ کہنا مشکل ہے۔سیاست میں بھائی بھتیجا پروری ایک دن اپنے انجام کو ضرور پہنچتی ہے، لیکن اس سے قطعِ نظر انتخابات کے بعد ایک ماہ کے دوران بنگال کے واقعات بہت سنسنی خیز ہیں۔ اس سے قبل بھی کانگریس، سی پی ایم اور ٹی ایم سی یکے بعد دیگرے اقتدار حاصل کرتی رہی ہیں، ہر بار ان پارٹیوں کا زمینی کیڈر اور ووٹر بڑی حد تک حکمران جماعت کی جانب منتقل ہو جاتا تھا۔ لیکن 2016 اور 2021 کے ریاستی انتخابات کا بوتھ سطح کا تجزیہ بتاتا ہے کہ ان انتخابات میں سی پی ایم اور کانگریس کا زمینی کیڈر اور ووٹر تیزی کے ساتھ ترنمول کانگریس کی بجائے بی جے پی میں شامل ہو گیا تھا۔ آج بنگال میں بی جے پی کا جو زمینی سطح کا کیڈر موجود ہے، وہ کانگریس اور سی پی ایم سے آیا ہے۔ ریاست کے موجودہ وزیرِ اعلیٰ خود بھی کانگریس سے وابستہ رہےہیں، لیکن تب اقتدار کی تبدیلی کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر سیاسی تشدد کے واقعات پیش نہیں آئے تھے۔ اب صورتِ حال مختلف ہے۔ حالانکہ ان واقعات کو عوامی غصے اور ردِ عمل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
سچ یہ ہے کہ زیادہ تر واقعات میں بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کے کارکن پیش پیش رہتے ہیں۔ عموماً عوام کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوتا، اور تشویش کا اصل پہلو یہی ہے کہ حکمران جماعت کے کارکن سیاسی انتقام لینے کے نام پر فرقہ واریت کو بھی پرتشدد طریقے سے فروغ دے رہے ہیں۔اس ردِ عمل کی وجہ یہ ہے کہ اس پورے عرصے میں ریاست کا مسلم ووٹر سیکولر جماعتوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا اور کانگریس یا کمیونسٹ غیر مسلم کیڈر کی طرح بی جے پی کی طرف منتقل نہیں ہوا۔ لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ یہ تقریباً 30 فیصد ووٹر بے یار و مددگار اور سیاسی یتیمی کا شکار ہو گیا ہے۔ خود ممتا بنرجی بھی اپنی پارٹی پر گرفت کھو بیٹھی ہیں۔ایسے میں ہر روز ہونے والے ان مظالم کے خلاف سڑکوں پر جدوجہد کرنے کے لیے کون سامنے آئے گا؟ بنگال جیسی صورتِ حال آئندہ ہونے والے ہر ریاستی انتخاب میں دہرائی جا سکتی ہے۔ یہی وہ حالات ہیں جن سے سیاسی جماعتیں لرزہ براندام ہیں۔ایسے میں، جہاں ممتا بنرجی اپنے بھتیجے کے ساتھ اپنی پارٹی کو کانگریس میں ضم کرنے کے امکانات پر غور کر رہی ہیں، وہیں بعض دوسری جماعتوں میں بھی یہ مشورہ زیرِ بحث ہے کہ بی جے پی کو شکست دینے کے لیے انڈیا اتحاد کی اکثر حلیف جماعتوں کو کانگریس میں ضم ہو جانا چاہیے اور متحدہ طور پر بی جے پی کے مقابلے میں دو بدو لڑائی لڑنی چاہیے۔حتیٰ کہ شیو سینا کے سنجے راوت اور این سی پی کے شرد پوار کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے اشارے سامنے آئے ہیں۔ ۸ جون کو انڈیا اتحاد کی میٹنگ اور اس کے بعد ملک میں یہ بحث مزیدبڑھ گئی ہے۔
میرے نزدیک یہ بہت دور کی کوڑی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اکثر پارٹیاں کانگریس سے ٹوٹ کر ہی وجود میں آئی ہیں۔ ان کا وجود ہی کانگریس مخالفت پر قائم ہے، تو پھر کانگریس میں ضم ہو کر اپنے وجود کو تحلیل کرنے کا خطرہ کون مول لے گا؟دوسری بات یہ ہے کہ سماج وادی پارٹی، آر جے ڈی اور مسلم لیگ وغیرہ جیسی علاقائی اور موروثی پارٹیاں خود کو کانگریس میں ضم کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتیں۔ اسی طرح کمیونسٹ جیسی نظریاتی جماعتیں بھی محض ایک انتخابی مصلحت کی خاطر اپنے وجود کو ختم کرنے کا رسک نہیں لے سکتیں۔اس نوعیت کی بہت سی دوسری مجبوریاں بھی مختلف سیاسی جماعتوں کو درپیش ہیں۔ دوسری جانب خود کانگریس پارٹی کا دیرینہ رویہ یہی رہا ہے کہ وہ بلا شرکتِ غیرے اقتدار میں رہنا چاہتی ہے ،کسی دوسری جماعت کو پنپنے نہیں دینا چاہتی۔ اسی لیے ممتا بنرجی اور شرد پوار جیسے رہنما پارٹی چھوڑ کر باہر آئے تھے۔لیکن اگر آج یہ بحث کھڑی ہوئی ہے تو اس کے پیچھے شکست خوردگی کی ایک عارضی نفسیات کارفرما ہے۔ فی زمانہ تقریباً تمام سیاسی جماعتیں ایک طویل عرصے سے اقتدار سے دور رہنے کی وجہ سے مالی وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ سب کی جیبیں تقریباً خالی ہیں۔ یہ جماعتیں کچھ عرصہ مزید اقتدار سے دور رہیں تو کوڑی کوڑی کی محتاج ہو جائیں گی، اور مالی کمزوری کے باعث بہت سی جماعتیں ویسے ہی اپنے وجود سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی۔کمیونسٹ پارٹیاں اس کی نمایاں مثال ہیں۔
اس وقت سارے وسائل اور دولت صرف بی جے پی کے ہاتھ میں ہیں، جس کا وہ بھرپور فائدہ اٹھاتی ہے۔ آج کے زمانے میں دولت کے بغیر انتخابات لڑنا ہی ممکن نہیں، جیتنا تو بہت دور کی بات ہے۔ زمینی کارکنان بھی پیسے کے بغیر ایک انچ نہیں ہلتے۔ نظریاتی سیاست اور جانثار کارکنوں کا زمانہ ختم ہو چکا ہے۔اس لیے ممکن ہے کہ یہ جماعتیں عارضی طور پر کانگریس کے پرچم تلے اکٹھی ہو کر پہلے بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانے اور پھر خود اقتدار حاصل کرنے کی حکمتِ عملی پر غور کر رہی ہوں۔ ایک مرتبہ اقتدار میں آ کر اگر وہ دوبارہ مضبوط ہو جائیں تو کانگریس سے الگ ہوکر نئی صف بندی کرنے کا راستہ تو ہمیشہ کھلا ہی رہے گا۔لیکن اگر ایسا ہے تو یہ ملک کے ساتھ بڑی سیاسی بددیانتی ہوگی۔ ملک اس وقت کثیر الجماعتی جمہوریت کا حامل ہے۔ آر ایس ایس ہمیشہ سے یہ چاہتی ہے کہ ملک دو جماعتی نظام میں تبدیل ہو جائے اور بعد ازاں چین اور روس کی طرح ایک جماعتی نظام کی طرف بڑھ جائے۔اگر اقتدار سے محروم یہ جماعتیں اپنی موجودہ حکمتِ عملی کے ذریعے اسی رجحان کو تقویت دیتی ہیں تو وہ غیر ارادی طور پر آر ایس ایس کی اس خواہش کی تکمیل میں معاون ہوں گی دو جماعتی نظام میں اقلیتوں، قبائلیوں، دلتوں، پسماندہ طبقات اور علاقائی شناختوں کی نمائندگی کرنے والی آوازوں کے لیے گنجائش کم ہو گی۔اس صورت میں ملک کی کثیر آبادی اپنے جمہوری، سیاسی، اقتصادی، تہذیبی اور تشخصی مسائل کے حل کے لیے کسی نہ کسی بڑی جماعت کی بندھوامزدور بننے پر مجبور ہو جائیں گی۔ ملک کی ہر سیاسی جماعت میں برہمنی ذہنیت کا یہ غلبہ ملک کی سیاست کو آر ایس ایس کی خواہشات کی تکمیل میں ہمیشہ مدد دیتا رہا ہے اور آج بھی وہی کر رہا ہے۔ کثیر الجماعتی جمہوریت ہی ملک کی ہمہ جہت ترقی کی ضامن اور "سب کا ساتھ، سب کا وکاس" کی حقیقی کنجی ہے۔اس کے برعکس صورتِ حال استبداد اور استحصال کا ایک نیا باب کھول دے گی۔ محض ایک انتخاب جیتنے کی خاطر ملک کے سیاسی نظام کو گروی رکھ دینا "تحفظِ دستور" کے نعرے کے منافی ہے۔ملک میں منصفانہ اور مستحکم سیاست کے قیام کے لیے نئی سیاسی صف بندی ناگزیر ہے، جو کانگریس، بی جے پی اور ان کے حلیفوں کے دائرے سے باہر کھڑی کرنی ہوگی۔ اس کے لیے مذہب، ملت، ذات، برادری اور علاقائی تفریق سے بالاتر ہو کر، صرف غربت اور محرومی کو بنیاد بنا کر سیاسی قیادت کو ابھرنا ہوگا، تبھی ملک کے مسائل کا حل ممکن ہو سکے گا۔اس کے لیے بہرحال کچھ وقت درکار ہے۔ سرِدست بی جے پی بھی 2029 کے انتخابات کے حوالے سے زیادہ متفکر محسوس نہیں ہوتی۔ ان کا اصل ہدف 2034 ہے دریا میں طغیانی لانے کے لئے اتنی مہلت کافی ہے۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کاؤنسل کے صدر ہیں )
arrifah@gmail.com
--
No comments:
Post a Comment